بھوپال، 31/اکتوبر (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) بھوپال کی جیل سے اتوار کی رات کو مبینہ طورپر گارڈ کو قتل کرکے فرار ہوئے تمام قیدیوں کو پولیس نے شہر کے مضافات میں ایک انکاؤنٹر میں مار ڈالا ہے۔ریاست کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے یہ معلومات دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ا ینٹ کھیڑا گاؤں میں پولیس نے سبھی لوگوں کو گھیر لیا جس کے بعد ہوئے انکاؤنٹر میں سبھی کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ سبھی لوگ سیمی سے وابستہ بتائے جا رہے ہیں۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ فرار ہونے سے قبل رات کو تقریبا دو بجے ڈیوٹی پر تعینات گارڈ رما شنکر کو قیدیوں نے قتل کردیا تھا۔ قتل کے لیے قیدیوں نے کسی دھاردار چیز کا استعمال کیاتھا اور پھر چادر کے سہارے جیل کی دیوار کود کر فرار ہو گئے تھے۔فرارہونے والے تین لوگ پہلے بھی اسی طرح سے جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ قیدیوں نے فرار ہونے کے لیے دیوالی کی ہی رات کو اس لیے منتخب کیا،تاکہ پٹاخے کے شور میں وہ اپنا کام کر سکیں۔ قیدیوں کے فرار ہونے کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ اور تین سیکورٹی گارڈوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ریاست کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے بتایا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہوگی اور فرارہونے والے قیدیوں کی تلاش کے لیے پولیس کی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ فرار ہونے والے زیادہ تر قیدیوں پر غداری کا مقدمہ چلا یا جارہا ہے اور کچھ پر ڈاکہ زنی کا بھی الزام ہے۔ ریاستی حکومت نے فرارہونے والے ہر سیمی کارکن کی گرفتاری پر 5 لاکھ روپے کا انعام کا اعلان کر دیا تھا۔
بھوپال کے ڈی آئی جی رمن سنگھ نے دعوی کیا تھاکہ سیمی کے 8 کارکن علی الصبح تقریبا دو سے تین بجے کے درمیان ایک سیکورٹی گارڈ کو قتل کرنے کے بعد جیل سے فرار ہو گئے تھے۔انہوں نے بتایاکہ دی اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا(سیمی) کے کارکنوں نے ایک سیکورٹی گارڈ کو قتل کر دیا اور اس کے بعد وہ چادر کی مدد سے جیل کی دیوار کود کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ ڈی آئی جی نے یہ بھی دعوی کیا کہ انہوں نے پہلے گارڈ کو گھیر کر اپنے قبضے میں لے لیا اور پھر اسٹیل کی پلیٹ سے اس کا گلا کاٹ کر اسے ہلاک کر ڈالا۔ ادھر وزارت داخلہ نے مدھیہ پردیش حکومت سے اس واقعہ کے سلسلے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کیا جیل انتظامیہ کی جانب سے کوئی غلطی ہوئی یا ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کون سے قدم اٹھائے گئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں اس بات کو لے کر بہت فکر مند ہیں کہ یکم اکتوبر 2013 کو کھنڈوامیں واقع جیل سے بھاگے سیمی کے 7 کارکنوں میں سے 4 کو تین سال تک چھپے رہنے کے بعد مشکل سے پکڑا گیا تھا اور ان تین سال میں یہ لوگ دہشت گردی کی کئی اور بینک لوٹ مار کے ایک واقعہ میں ملوث تھے۔ یکم اکتوبر 2013کو سیمی کے 7 کارکنان مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں واقع ڈسٹرکٹ جیل سے 14فٹ بلند دیوار پھاند کر بھاگ گئے تھے۔یہاں پر یہ قیدی جیل کے باتھ روم کی دیوار توڑ کر فرار ہوئے تھے۔کھنڈوا بھوپال سے تقریبا 280کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ان میں سے ایک قیدی نے اگلے دن خودسپردگی کر دی تھی اور ایک اور قیدی کو مدھیہ پردیش کے بڑوانی سے دسمبر 2013میں گرفتارکیا گیا تھا۔ تیسرا قیدی 5 /اپریل 2015کو تلنگانہ پولیس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔چار قیدیوں کی پولیس مسلسل تین سال تک تلاش کرتی رہی اور فروری 2016میں انہیں اڑیسہ کے راؤڑکیلا سے گرفتار کیا گیاتھا۔دعوی کیا جارہا ہے کہ جب یہ چاروں قیدی فرار تھے،تب مبینہ طورپر انہوں نے مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، تمل ناڈو، مہاراشٹر، اتراکھنڈ اور اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔اس شک کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ لوگ تلنگانہ کے کریم نگرمیں واقع ایک بینک میں لوٹ مار کے ایک معاملے میں اور یکم فروری 2014کو چنئی سینٹرل اسٹیشن پر بنگلورو-گوہاٹی ٹرین میں ہوئے دھماکے میں ملوث تھے۔اس دھماکے میں ایک سافٹ ویئر انجینئر کی موت ہو گئی تھی۔یکم مئی 2014 کو پونے کے فرش خانہ پولیس تھانے میں اور 10/جولائی 2014کو وشرام باغ پولیس تھانے کے قریب ہوئے دھماکوں میں بھی ان لوگوں کا ہاتھ ہونے کے کا دعوی کیا جارہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اتراکھنڈ کے روڑکی اور اتر پردیش کے بجنور میں ہوئے بم دھماکے کے واقعات میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھے۔